منگل 27 جنوری 2026 - 23:25
لاکھوں لوگ آیت اللہ خامنہ ای پر اپنی جان تک قربان کرنے کے لیے تیار ہیں

حوزہ / بحرین کے شیعہ رہنما آیت اللہ عیسی قاسم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای ایک ایسی شخصیت ہیں جو علمی، روحانی اور سیاسی بلندیوں پر فائز ہیں، وہ رہنما جس کے لیے ایران کے لاکھوں مرد و زن اپنی جانیں قربان کرتے ہیں اور ان کے حکم کو ایک ایسا دینی حکم سمجھتے ہیں جس کی خلاف ورزی جائز نہیں اور وہ ان کی صحت کو اسلام اور قوم کی سلامتی سمجھتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ عیسی قاسم نے امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے رہبر انقلاب کی توہین کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا ہے۔ جس کا متن کچھ یوں ہے:

یہ بات سب پر عیاں ہے کہ آج دنیا کی تمام بڑی اور چھوٹی قوموں اور ریاستوں میں بستے وہ لوگ جو امریکہ کی مخالفت کرتے ہیں یا جو اس کے دوست سمجھے جاتے ہیں، آج اپنی بلکہ پوری دنیا کے مستقبل کے بارے میں نہایت فکر مند ہے۔

ایک ایسے ہمہ گیر اور تباہ کن خطرہ جس کے بارے میں جس میں مادّی طاقت کی کھوکھلی باتوں کے سوا کچھ سنائی نہیں دیتا اور جس میں عقل، مذہب، اخلاقیات اور عظیم انسانی فطرت کی منطق کا مکمل فقدان ہے۔ اس وسیع تر عالمی خوف کا اصل ماخذ امریکی صدر کی بے لگام پالیسیاں اور دنیا پر استکباری تسلط کے حصول کے لیے ان کا تباہ کن انداز ہے۔

اس حقیقت کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ٹرمپ کس قسم کی "اصلاحات" کو جمہوریہ اسلامی ایران کی عظیم قیادت کے لیے ضروری سمجھتا ہے؟! وہ رہبر جس کی کمالی خصوصیات کی وجہ سے لاکھوں اور ہجوم کی شکل میں ہونے والے مارچ نے اس ملک کی سڑکوں کو تخریب کارانہ اور کینہ پرور تحریکوں کے خلاف ان کی حمایت میں بھر دیا؛ وہ تحریکیں جن کے لیے [دشمن] نے بہت زیادہ خرچ کیا، انہیں پروان چڑھایا اور ان کی حمایت اور ان سے اپنی یکجہتی کا اعلان کیا اور رسمی نظام کے خلاف براہ راست مداخلت کی طرف بڑھاوا دیا تاکہ کسی تاخیر کے بغیر عوام، دولت، بنیادی ڈھانچے اور ہر اس چیز کو تباہ کر کے جو عوام کی زندگی سے وابستہ ہے، جمہوریہ اسلامی کو تباہ کر دے اور اس کی واپسی کا کوئی موقع باقی نہ چھوڑے۔

آیا کوئی ایک باشعور اور سمجھدار ایرانی بھی یہ یقین کر سکتا ہے کہ بارہ روزہ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی جارحانہ یلغار اور اس کے بعد براہ راست، پرتشدد، وسیع تر، تباہ کن اور خونریز جنگ چھیڑنے کی کوشش ٹرمپ کی ہمدردی اور ایرانی قوم کی مصلحت، ان کی آزادی، خود مختاری اور عزت کے لیے اس کے احترام اور ہمدردی کی وجہ سے تھی؟!

حضرت آیت اللہ خامنہ ای علمی، روحانی اور سیاسی طور پر بلند چوٹیوں پر فائز شخصیت ہیں اور وہ ایک ایسے رہنما ہیں جن کے پاس منفرد امتیازات ہیں جو آج کی دنیا کے رہنماؤں میں (ستاروں کی طرح) چمکتے ہیں۔

ایک ایسے رہنما جن کے لیے ایران کے لاکھوں مرد و زن اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں اور جن کے حکم کو دین کا حکم سمجھتے ہیں، جس سے انحراف جائز نہیں اور ان کی سلامتی کو اسلام اور امت کی سلامتی سمجھتے ہیں۔

ایک ایسے رہبر جن کی پشت پر پوری دنیا میں ایک وسیع امت ہے؛ ایک ایسی امت جو ان کی سلامتی اور اسلامی امت اور محترم انسانی معاشرے کے سطح پر ان کی برکات کے تسلسل کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتی ہے۔اس رہبر کے بابرکت وجود کے فائدے ہر باعزت اور صالح انسان کے لیے نفع بخش ہیں اور ان کا کلام، کردار اور ان کا جہاد دنیا کے امن، سلامتی، خیر، خوشحالی اور عالمی بھائی چارے کے لیے ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha